تصوف و تزکیہ
تحریر
حضرت صاحبزادہ مولانا محمد جمیل عباسی نقشبندی طاہری
مدظلہ العالی
حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں پوشیدہ خزانہ تھا، پھر میں نے پسند کیا کہ میں پہچانا جاؤں۔ اور کسی کو پہچاننے کے لیے پہچان حاصل کرنے والوں کی ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ بغیر پہچاننے والوں کے پہچان کا وجود عدم وجود برابر ہوتا ہے اور اس کے ساتھ چونکہ یہ پہچان بھی خدائے عزوجل کی حاصل کرنی تھی تو ایسے پہچاننے والے چاہییں تھے جو اس پہچان کی حق ادائیگی کرسکیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام تر مخلوقات سے انسان کو اس مقصد کے حصول کے لیے پسند فرمایا اور اس کو اشرف المخلوقات کا درجہ عطا کیا۔ جب وہ اشرف المخلوقات ہوا تو اس کی خلقت بھی سب سے بہتر و اعلیٰ ہوئی جیسے کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ”لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم“ ترجمہ بے شک ہم نے انسان کو حسین صورت میں تخلیق فرمایا ہے۔ تو یہ انسان کی احسن خلقت دو عناصر سے وجود میں آئی اور اس کو جسم و روح کا مجموعہ بناکر تخلیق کیا گیا۔ جسم و روح کے ساتھ ساتھ اس کے اندر خواہشات نفسانی بھی رکھ دی گئیں اور انسان کی ترقی کا حصول نفسانی خواہشات کی مخالفت کی باعث کردیا گیا۔ کیونکہ اگر انسان کے اندر نفسانی خواہشات کا ظہور نہ ہوگا تو روح فرشتہ کا حکم پیدا کرلے گی۔ حالانکہ خدا نے اپنی پہچان اور عبودیت اور خلافت کے لیے فرشتوں پر انسان کو ترجیح دی ہے، مگر اس کے ساتھ انسان کو عقل و شعور کی نعمتوں سے بھی نوازا گیا تاکہ نفسانی خواہشات کا مقابلہ کرنا ممکن ہوسکے۔ تو اب جبکہ انسان بنیادی طور پر دو چیزوں یعنی جسم اور روح کا مجموعہ ہوا تو اس کی ضروریات بھی فطری طور پر دو طرح کی ہوئیں، ایک جسم کی بقا کے لیے مادی ضروریات کا حصول، دوسرا روح کی پاکیزگی و طہارت کے لیے مخصوص ماحول کا میسر ہونا۔ خدا تعالیٰ نے انسان کی دونوں ضروریات کا سامان اس دنیا میں مہیا فرمایا۔ ایک طرف جہاں جسم کے لیے کھانے پینے اور پہننے کے وسائل پیدا کیے تو روح کی ضروریات یعنی پاکیزگی اور طہارت کے لیے دنیا میں انبیاء کرام مبعوث فرماتا رہا، حتیٰ کہ جب انسانی جسم و روح اس قابل ہوا کہ وہ اپنی پیدائش کے مقصد حقیقی یعنی خدا تعالیٰ کی بندگی کا حق کامل طریقے سے ادا کرسکے تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے محبوب ترین بندے آقا و مولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کو اس دنیا میں آخری پیغمبر بناکر مبعوث فرمایا۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ساتھ نبوت کا دروازہ بند ہوگیا، مگر انسان کی ہدایت و ترقی کے لیے خدا تعالیٰ نے یہ اسباب تخلیق فرمائے کہ نبی آخرالزماں صلّی اللہ علیہ وسلم کے افعال و احوال کو محفوظ بناکر قیامت تک پیدا ہونے والے انسانوں کے لیے ہدایت کا سامان پیدا کردیا اور اس کے ساتھ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کے فیوض و تجلیات آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کے سینہ مبارک سے صحابہ کو ودیعت فرماکر روح کی صفائی و پاکیزگی کے اسباب بھی فراہم کردیے۔ اس طرح آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو اپنی صحبت میں نہ صرف ظاہری علوم اور شریعت سے مزین فرمایا بلکہ اپنے فیض صحبت سے صحابہ کرام کا تزکیہ کرکے ان کو علم باطنی سے بھی نوازا جس طرح کہ خود اللہ تعالیٰ نے قران کریم میں ارشاد فرمای
ھو الذی بعث فی الامیین رسول
منھم یتلو علیھم آیٰتہ و یزکیھم و یعلمھم الکتٰب والحکمۃ و ان کانوا من قبل لفی
ضلٰل مبین
ترجمہ۔ اللہ کی ذات وہی ہے جس نے ان پڑھوں میں ایک رسول بھیجا انہیں میں سے، جو
ان پر اللہ کی آیتوں کو تلاوت کرتا ہے اور دلوں کو پاکیزہ اور صاف کرتا ہے اور
انہیں کتاب و حکمۃ کی تعلیم دیتا ہے، اگرچہ اس سے پہلے وہ گمراہی میں تھے۔
اس آیت مبارکہ سے رسول اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کے اس دنیا میں تشریف فرما ہونے کے تین مقصد ظاہر ہوتے ہیں
-
اللہ تعالیٰ کی آیتوں کی تلاوت
-
مؤمنین کا تزکیہ
-
کتاب و حکمۃ کی تعلیم
مفسرین کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مقصد اول خدا تعالیٰ کی آیتوں کی تلاوت اور مقصد سوم کتاب و حکمۃ کی تعلیم سے مراد قرآن و شریعت کی مکمل تعلیم ہے۔ اور جہاں تک دوسرے مقصد یعنی تزکیہ کا تعلق ہے تو اس سے مراد تزکیہ باطن و تصوف ہی کا نام ہے۔ لہٰذا اس آیت کریمہ سے یہ بات واضح طور پر ثابت ہوتی ہے کہ رسول کریم صلّی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم و تبلیغ صرف علم ظاہر و شریعت تک ہی محدود نہیں تھی بلکہ جس طرح آپ صلّی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کو کتاب و حکمۃ سے عقائد و اعمال شریعت کی تعلیم و تلقین فرماتے تھے، وہاں اپنے فیض صحبت اور توجہات عالیہ سے صحابہ کو تزکیہ نفس و صفائے قلب سے بھی نوازا کرتے تھے۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کی صحبت عالیہ سے صحابہ نے جہاں کتاب و حکمۃ حاصل کیا وہاں انہیں تزکیۂ نفس جیسی نعمت بھی حاصل ہوئی۔ انہیں صحابہ میں سے جہاں حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت عبداللہ بن عمر و دیگر کبار صحابہ نے آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے عطا کی ہوئی کتاب و حکمۃ کی تعلیم کو عام کیا، وہاں حضرت سیدنا صدیق اکبر، حضرت سلمان فارسی اور دیگر صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین اور حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ نے آپ صلّی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کی ہوئی تزکیہ و تصفیہ قلب کی نعمت کو اوروں تک پہنچانے کی سعادت حاصل کی۔ تو اب ایک طرف جہاں علم شریعت کے احکامات سیکھنا ضروری ہوا تو اس کے ساتھ تصوف یعنی تزکیہ کا حصول بھی اتنا ہی ضروری ہوا۔ کیونکہ یہ وہی نعمت ہے جو کہ انسانوں تک پہنچانے کے لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے آخری پیغمبر حضرت محمد مصطفیٰ صلّی اللہ علیہ وسلم کو اس دنیا میں مبعوث فرمایا۔ اب یہی نعمت جس طرح آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو عنایت فرمائی اسی طرح ان صحابہ نے یہ امانت سلف صالحین تک پہنچائی اور ان عظیم ہستیوں سے سینہ بہ سینہ ہوتی ہوئی یہ تزکیۂ قلب و تصفیہ جیسی نعمت آج تک جاری و ساری ہے اور قیامت تک جاری رہے گی۔
تصوف کیا ہے
تصوف کی تعریف بیان کرتے ہوئے حضرت جنید بغدادی علیہ الرحمۃ جو اہل تصوف کے پاس سید الطائفہ کے لقب سے ملقب ہیں، فرماتے ہیں تصوف مخلوق کی موافقت سے دل کو پاک رکھنا، بشری صفات مذمومہ سے علاحدگی اختیار کرنا، نفسانی خواہشات سے اجتناب کرنا، روحانی نفوس سے میل جول رکھنا، علم حقیقی سے تعلق رکھنا، ہر لحظہ ایسے کام بجا لانا جو اولیٰ اور افضل ہوں، تمام امت محمدیہ علیہ السلام کی خیر خواہی کرنا، حقیقی طور پر اللہ تعالیٰ سے وفا کرنا اور شریعت محمدی علیہ السلام کی پیروی کرنا ہے۔ ایک اور موقعہ پر آپ نے فرمایا کہ تصوف حق تعالیٰ کے ساتھ پیوست ہوجانے کا نام ہے اور یہ کیفیت صرف اس وقت حاصل ہوتی ہے جب نفس روح کی قوت اور حق کے ساتھ قائم رہنے کی وجہ سے اسباب سے بے تعلق ہوچکا ہو۔ تصوف کے ممتاز رہنما اور مشہور صوفی شیخ عبداللہ تستری علیہ الرحمۃ تصوف کی تعریف میں فرماتے ہیں کہ ہمارے مسلک کے سات اصول ہیں
-
التمسک بکتاب اللہ (کتاب اللہ سے مضبوط تعلق)
-
اقتدا برسول اللہ (رسول اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اختیار کرنا)
-
اکل حلال (رزق حلال)
-
کف الاذی (مخلوق کی ایذا رسانی سے پرہیز کرنا)
-
اجتناب الآثام (گناہوں سے بیزاری اور نفرت اختیار کرنا)
-
التوبۃ الی اللہ (ہر حال میں خدا کی طرف رجوع کرنا)
-
اداء الحقوق (خدا اور اس کے بندوں کے حقوق کو بجالانا)
حضرت شیخ ابوعلی رودباری علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں محبوب کے در پر ڈیرے ڈال دینے کا نام تصوف ہے، خواہ وہ دھکے ہی کیوں نہ دے۔
تصوف و طریقت کی عظیم شخصیت حضرت غوث اعظم عبدالقادر جیلانی علیہ الرحمۃ تصوف کے بارے میں اپنی کتاب فتوح الغیب میں تصوف کی تعریف فرماتے ہوئے لکھتے ہیں: تصوف آٹھ خصلتوں پر مشتمل ہے
-
سخاوت ابراہیم علیہ السلام
-
رضائے اسحٰق علیہ السلام
-
صبر ایوب علیہ السلام
-
مناجات زکریا علیہ السلام
-
غربت یحییٰ علیہ السلام
-
خرقہ پوشی موسیٰ علیہ السلام
-
تجرد عیسیٰ علیہ السلام
-
فقر محمد علیہ السلام
حضرت شیخ ابوالحسن نوری علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں
التصوف ھو الحریۃ و الفتوۃ
ترک التکلف والسخاء وبذل الدنیا
ترجمہ۔ تصوف دل کی آزادی، جواں ہمتی، رسمی تکلفات سے دستبرداری اور زر و مال سے
بیزاری کا نام ہے۔
حضرت شیخ علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش لاہوری علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں دین کی اصل روح یعنی احکام الٰہی کی اخلاق و محبت کے ساتھ پیروی کرنے کا نام تصوف ہے۔
ان تصوف کی عظیم ہستیوں کے اقوال و تحریرات سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ دین اسلام پر اپنے جسم و روح کے ساتھ کامل بلکہ اکمل طریقے سے عمل کرنا ہی تصوف ہے اور تصوف سے ہمیں تزکیہ نفس اور تصفیہ اخلاق جیسی نعمتوں پر عمل کرنا آسان ہوجاتا ہے اور آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی بعثت کا یہی مقصد بیان فرمایا ”بعثت لاتم مکارم الاخلاق۔“
صوفیاء کرام کے اقوال سے کہیں بھی ظاہر نہیں ہوتا کہ تصوف شریعت سے الگ کوئی نظام ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ شریعت نے جو احکامات قانون کی زبان میں صادر فرمائے ہیں تصوف انہیں دل نشین اور مؤثر پیرائے میں پیش کرکے جذبات محبت ابھارتا ہے اور اطاعت اور انقیاد پر اکساتا ہے۔
مرشد کامل کی ضرورت
آج جبکہ ہماری مسلمانی کا درجہ گرتا چلا جارہا ہے، میلان دین سے ہٹ کر کسی اور طرف ہوگیا ہے، قلب و روح بے چین ہے، اعمال سے اخلاق عنقا ہوتا جارہا ہے، ایسے دور میں جب انصاف پسند شخص اپنے اندر کا تجزیہ کرے گا تو یہ بات اس پر ظاہر ہوجائے گی کہ ان فسادات کی جڑ نیک صحبت سے دوری اختیار کرنا ہے۔ کیونکہ قریش مکہ بھی آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے سے ہی برائیوں اور فسادات سے پاک ہوکر صحابی کے لقب سے سرفراز ہوئے۔ تو آج بھی اپنے اندر کے فسادات کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے وہی آزمودہ نسخہ نیک صحبت ہے جو مقربان بارگاہ الٰہی نائبین رسول صلّی اللہ علیہ وسلم کو یعنی اولیاء عظام کی خدمت، عاجزی و انکساری، خلوص نیت اور فیض نبوی کو حاصل کرنے کی نیت سے بیٹھنے والے کو حاصل ہوجاتا ہے۔ خود اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے کلام میں ارشاد فرماتا ہے
یا ایھا الذین آمنوا تقواللہ
وابتغو الیہ الوسیلہ
ترجمہ۔ اے ایمان والو خدا سے ڈرو اور اس کے راستے کی طرف وسیلہ ڈھونڈو۔
صاحب تفسیر روح البیان اس آیت کے تحت فرماتے ہیں جان لے اس آیت کریمہ میں وسیلہ ڈھونڈنے کے حکم کی صراحت ہے، وسیلہ کا ہونا بیشک ضروری ہے کیونکہ وصول الی اللہ وسیلہ سے ہی حاصل ہوتا ہے اور وسیلہ علمائے حقیقت و شیخ طریقت ہیں۔ امام ربانی مجدد و منور الف ثانی قدس سرہ اپنے مکتوب میں حکیم صدر کو لکھتے ہیں، اہل دل امراض کے طبیب ہیں باطنی مرضوں کا دور ہونا ان بزرگواروں کی توجہ سے وابستہ ہے، ان کا کلام دوا ہے اور ان کی نظر شفا۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا ہمنشین بدبخت نہیں ہوتا، یہ لوگ اللہ کے ہمنشیں ہیں، انہی کے طفیل بارش نازل ہوتی ہے اور انہی کے طفیل مخلوقات کو رزق دیا جاتا ہے۔ مزید فرماتے ہیں کہ عمر کو فقراء کی خدمت میں بسر کرنا چاہیے۔
واصبر نفسک مع الذین یدعون
ربھم با الغداوۃ و المشی یریدون وجھہ
ترجمہ۔ روک رکھ اپنے نفس کو ان لوگوں کے ساتھ جو صبح و شام اللہ تعالیٰ کو
پکارتے ہیں اور اسی کے طالب ہیں۔
خود نص قاطع ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلّی اللہ علیہ وسلم کو اس طرف امر فرمایا ہے (یعنی آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے ان کے ساتھ بیٹھنے کو فرمایا ہے)
شیخ محی الدین ابن عربی علیہ الرحمۃ نے اپنی کتاب مواقع النجوم و مطالع اہل الاسرار والعلوم میں شیخ کامل کو لازم پکڑنے کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں کہ جس طرح علم عقائد و فقہ سیکھنے کے لیے علمائے ظاہر کی ضرورت ہے اسی طرح علم باطن کی تحصیل کے لیے علماء باطن (صوفیاء) کی ضرورت ہے۔ کوئی شخص اپنے امراض باطن کا علاج ماہر و تجربہ کار شیخ کے بغیر نہیں کرسکتا خواہ اسے اخلاق و وعظ کی ہزاروں کتابیں یاد ہوں۔ ایسا عالم اگر مرشد کامل کے بغیر تزکیہ و تصفیہ کے راستہ میں قدم رکھے تو اس کا حال ایسا ہے جیسے کسی نے طب کی کتابیں یاد کرلیں مگر مطب میں بیٹھ کر تجربہ نہ کیا۔ اب اگر کوئی اس کو لیکچر دیتے سنے تو وہ یہ سمجھے گا کہ یہ بہت بڑا حکیم ہے، مگر جب مریض اس کے سامنے لاکر اس کے مرض کی تشخیص اور اس کا حال دریافت کیا جائے گا تو یہ کہنے پر آمادہ نظر آئے گا کہ یہ تو بڑا جاہل ہے۔
حضرت بایزید بسطامی علیہ الرحمۃ کا ارشاد ہے کہ جس کا استاد (پیر) نہ ہو اس کا استاد (امام) شیطان ہے۔
حضرت غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی علیہ الرحمۃ اولیاء اللہ کی صحبت لازم سمجھنے کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں: اے اللہ کے بندے میں تجھے تلقین کرتا ہوں کہ ایسے لوگوں کی صحبت اختیار کر جو علم و عمل اور ایمان و یقین میں راسخ ہوں اور ہمیشہ خدا تعالیٰ پر متوکل ہوں۔ تیرے ظاہر و باطن کو ہر قسم کی کدورتوں سے صاف کردیں گے، دل و دماغ میں توحید کو مستقل طور پر جاگزیں کردیں گے اور تو ان کے فیوض روحانی سے دنیا و عقبیٰ میں فلاح حاصل کرے گا۔
حضرت شیخ علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش علیہ الرحمۃ صحبت صالحین کی فضیلت میں فرماتے ہیں اگر کوئی نیک بزرگ کی صحبت اختیار کرتا ہے تو باوجود برا ہونے کے نیک کہلائے گا اور ان کی ہمنشینی اسے نیک کردے گی۔
شیخ عبدالحق محدث دہلوی صحبت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے نواب خانخاناں کی طرف اپنے مکتوب میں لکھتے ہیں شوق مطلوب اور جذبۂ طلب طالب کے باطن میں اس طرح ہونا چاہیے کہ اگر دنیا کے سب عقلاء و حکماء جمع ہوکر اس کے مطلوب کے حاصل کرنے کو مشکل قرار دیں تب بھی وہ اپنے مطلوب کی جستجو میں مصروف رہے۔ یہ ہے طلب صادق۔ مزید فرماتے ہیں کہ ایسی کیفیت کا پیدا ہونا نادر ہے مگر پھر بھی ناامید ہوکر مایوس نہیں ہونا چاہیے، بلکہ یہ امر لازمی ہے کہ جو چیز تمام حاصل نہ ہو وہ پوری کی پوری ترک نہ کردی جائے بلکہ اس کا جتنا حصہ حاصل ہوسکے غنیمت ہے۔ اور اگر اس کام کو کسی مرد صاحب درد کے سایہ عاطفت میں کریں تو اسکی خاصیت اور تاثیر جداگانہ ہے۔ ویسے جو آپ سو سال میں حاصل کریں اگر ایک ساعت ان نیک لوگوں کی صحبت و محبت اور الفت سے نصیب ہوجائے تو سرمایہ عمر بلکہ زاد آخرت ہے اور ان لوگوں کی صحبت سے نور ایمان اور یقین دل میں آتا ہے اور وہ اس طرح دل میں منقش ہوجاتا ہے کہ اس کا مٹ جانا اور زائل ہونا محال اور متعذر ہے۔
اولیاء اللہ کی صحبت اختیار کرنے اور اسکی فضیلتوں کے بارے میں حضرت امام ربانی مجدد و منور الف ثانی علیہ الرحمۃ نے شیخ نور محمد کو لکھا کہ آپ کی دلی خواہش گوشہ نشینی کی تھی جو آپ کو میسر آگئی۔ لیکن بعض ایسی صحبتیں ہیں جو گوشہ نشینی اور تنہائی پر فضیلت رکھتی ہیں۔ حضرت اویس قرنی کے حال پر قیاس کرنا چاہیے کہ گوشہ نشینی اور تنہائی اختیار کرکے حضرت سید البشر صلّی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں حاضر نہ ہوسکا، اس لیے صحبت کے کمالات اس کو نصیب نہ ہوئے اور تابعین میں سے ہوگیا اور پہلے درجے کی فضیلت اور خیریت سے نکل کر دوسرے درجہ میں جا پڑا۔
ان تمام تر باتوں سے یہ بالکل واضح ہے کہ تزکیہ نفس اور تصفیہ قلب کی نعمت جو انسان کو اپنے مقصد حیات یعنی کامل عبودیت کے مقام تک پہنچاتی ہے اور وہی تزکیہ کی نعمت جو اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلّی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے اپنے بندوں تک پہنچائی، اس نعمت کا حصول صالحین کی صحبت پر ہی منحصر ہے۔ کیونکہ خدا تعالیٰ کا طریقہ ہے کہ وہ جو کچھ بندوں کو عنایت کرتا ہے وہ وسیلہ کے ذریعے ہی عنایت کرتا ہے۔ اس لیے یہ تزکیہ قلب کی نعمت رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کے وسیلہ سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو عطا کی اور وہی نعمت صحابہ سے تابعین کو تفویض ہوئی اور پھر اس طرح سلسلہ بہ سلسلہ سینہ بہ سینہ جاری ہے۔ اسی لیے آج بھی اگر کوئی فرد بندگی کا حق ادا کرنا چاہتا ہے تو اس پر شرعی احکامات پر عمل کرنے کے ساتھ تزکیہ قلب کا حاصل کرنا بھی لازم ہوگا اور اس نعمت کا حصول صرف اولیاء اللہ کی صحبت سے ہی ممکن ہے۔
بیعت
تصوف کی راہ میں بیعت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کے بغیر کامل فائدے کا حصول ناممکن ہے۔ اور یہ قرآن حکیم و احادیث مبارکہ سے بھی ثابت ہے جس طرح قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ ”ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ“ ترجمہ: تحقیق وہ لوگ جو آپ کی (رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کی) بیعت کرتے ہیں در حقیقت وہ خدا تبارک و تعالیٰ کی بیعت کرتے ہیں۔
بیعت کی معنیٰ: بیعت کی لغوی معنیٰ حوالے کرنا، سپرد کرنا، فروخت کرنا کی جاتی ہے۔ تصوف میں مرید کا اپنے شیخ کامل کے ہاتھ پر اپنے نفس کو سپرد کرنے اور فروخت کرنے کا نام بیعت ہے۔ یعنی اپنے تمام تر ارادوں و اختیارات اور خواہشات نفسانی کو ختم کرکے خود کو شیخ کامل کے حوالے کردے اور راہ سلوک میں اس کی رضا و منشا کے خلاف کوئی بھی قدم نہ اٹھائے۔ اور اگر اس کے بعض احکام مرید کو صحیح معلوم نہ ہوں تو اس کو اپنے عقل کا قصور سمجھے اور ان افعال و اقوال کو افعال خضر علیہ السلام کے مثل سمجھے۔ گویا کہ اپنے شیخ کے ہاتھوں میں ’مردہ بدست زندہ‘ بن کر رہے۔ اس کو ہی بیعت سالکین کہا جاتا ہے اور یہی مقصود مشائخ مرشدین ہے اور یہی وہ راستہ ہے جو خدائے عزوجل تک آسانی سے رسائی حاصل کرواتا ہے۔ یہی بیعت آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے لی۔ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم سے اس بات پر بیعت کی کہ ہر آسانی و دشواری، ہر خوشی و ناگواری میں حکم سن کے قبول کریں گے اور اس کی اطاعت کاملہ کریں گے، اور صاحب حکم کے کسی حکم میں چوں چرا نہیں کریں گے۔ شیخ کامل کا حکم بھی درحقیقت رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہی ہوتا ہے کیونکہ ولی کامل نائب رسول صلّی اللہ علیہ وسلم ہوتا ہے اور ولی کامل کی تعریف ہی یہی ہے کہ جو کامل طریقے سے اتباع رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم پر کاربند ہو۔ تو اس کا کوئی بھی حکم شریعت رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کے خلاف نہیں ہوگا۔ اس طرح شیخ کامل کا حکم رسول کریم صلّی اللہ علیہ وسلم کا ہوا اور رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کا حکم اللہ کا حکم ہے اور اللہ عزوجل کے حکم میں مجال دم روا نہیں۔
بیعت کی حیثیت و اہمیت
ائمہ دین اور مشائخ طریق کا اس امر میں اختلاف ہے کہ آیا بیعت فرض ہے یا واجب ہے یا سنت ہے یا مستحب۔
جو افراد بیعت کو فرض کا درجہ دیتے ہیں وہ اپنے مؤقف کے لیے قرآن کریم کی اس آیت کریمہ کو دلیل بتاتے ہیں ”یا ایہا الذین اٰمنوا اتقوا اللہ وابتغو الیہ الوسیلہ و جاہدو فی سبیلہ لعلکم تفلحون۔“ ترجمہ: اے ایمان والو خدا سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو اور خدا تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرو تاکہ تم فلاح حاصل کرو۔ دوسری آیت میں ہے ”واتبع سبیل من اناب الی“ ترجمہ: اور اس شخص کے راستے کی پیروی کرو جو میری طرف رجوع کرتا ہو۔
چونکہ مذکورہ دونوں آیات میں امر کا صیغہ لایا گیا ہے اس لیے بیعت کو فرض سمجھا گیا اور اس کے ساتھ جب بیعت علم الاحسان کا (جو عبادات کا مغز ہے) دروازہ ہے تو اس کی فرضیت میں کیا شبہ ہے۔
بعض مفسرین کرام جو وجوب بیعت کے قائل ہیں انہیں دو مذکورہ آیات کی تفسیر کرتے لکھتے ہیں کہ صیغہ امر وجوب کی تعریف میں آتا ہے اور اگر بیعت فرض ہوتی تو اس کا انکار کرنے والا کافر ہوتا حالانکہ علماء کا اتفاق ہے کہ بیعت سے انکار کرنے والا کافر نہیں ہے۔ اکثر علماء کا یہ خیال ہے کہ صیغہ امر سے مراد استحاب ہے، دلیل کے طور پر کہتے ہیں کہ اگر بیعت فرض یا واجب ہوتی تو اس کے ترک کرنے والے کے لیے شارع علیہ السلام کے طرف سے کوئی وعید ہوتا اور اس کو ترک کرنے والا فاسق ہوجاتا مگر شریعت میں ایسا کوئی امر نہیں ہے اور طریقت شریعت کی ہی تابع ہے۔
بیعت کا سنت ہونا
احایث مشہورہ میں منقول ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر بیعت کرتے تھے۔ اکثر ارکان اسلام پر استقامت کے لیے، کبھی معرکوں میں ثابت قدم رہنے کے لیے، کبھی ہجرت کے لیے تو کبھی جہاد کے لیے آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم حضرات صحابہ سے بیعت لیا کرتے تھے جیسے بیعت رضوان۔ اور قرآن کریم میں ان بیعتوں کا تذکرہ موجود ہے۔
سورہ فتح میں ارشاد ہے ”ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ یداللہ فوق ایدیہم فمن نکث فانما ینکث علی نفسہ ومن اوفیٰ بما عاہد علیہ اﷲ سیاتہ اجرا عظیما۔“ ترجمہ: جو لوگ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کررہے ہیں وہ در حقیقت اللہ عزوجل کی بیعت کر رہے ہیں اللہ تبارک و تعالیٰ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے اوپر ہے، پھر جو شخص بیعت کو توڑے گا تو بیعت توڑنے کا وبال اسی پر ہوگا اور جو شخص اس عہد کو پورا کرے گا جس کا بیعت کے وقت خدا سے وعدہ کیا تھا تو عنقریب خدا عزوجل اس کو بڑا اجر عظیم عطا فرمائے گا۔“
ایک اور آیت میں ارشاد ہے ”لقد رضی اللہ عن المؤمنین اذ یبایعونک تحت الشجرۃ فعلم ما فی قلوبہم فانزل السکینۃ علیہم واصابہم فتحا قریبا۔“ ترجمہ: بیشک اللہ تبارک و تعالیٰ مؤمنین سے راضی ہوا جب یہ لوگ درخت کے نیچے آپ سے بیعت کر رہے تھے اور جو کچھ ان کے قلوب میں تھا وہ اللہ کو معلوم تھا سو اللہ نے ان پر اطمینان نازل فرمایا اور قریبی فتح عطا فرمائی۔
قرآن کریم میں ایک اور جگہ پر بیعت کا تذکرہ ان الفاظ مبارک سے آتاہے ”یا ایہا النبی اذا جاءک المؤمنات یبایعنک علیٰ ان الا یشرکن باللہ شیئا ولا یسرقن ولا یزنین ولا یقتلن اولادہن ولایاتین ببہتان یفترینہ بین ایدیہن وارجلہن ولا یعصینک فی معروف فبایعہن واستغفرلہن اللہ ان اللہ غفور رحیم (سورہ الممتحنۃ آیت 12)
ترجمہ: اے نبی (صلّی اللہ علیہ وسلم) جب آپ کے پاس مؤمن عورتیں بیعت کرنے کے لیے آئیں اور اس بات کا عہد کریں کہ وہ اللہ عزوجل کے ساتھ کسی کو بھی نہ شریک کریں گی اور نہ چوری کریں گی اور نہ ہی زنا کریں گی اور نہ اپنی اولاد کو قتل کریںگی اور کوئی ایسا بہتان نہ لگائیں گی جو انہوں نے خود گھڑا ہو اور آپ (صلّی اللہ علیہ وسلم) کے کسی امر معروف میں نافرمانی نہ کریںگی، تو پھر ان سے بیعت لے لیں اور اللہ عزوجل کی بارگاہ میں ان کے لیے مغفرت طلب فرمائیں، بلاشبہ اللہ تعالیٰ معاف فرمانے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔
ان تمام تر آیات و دلائل سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بیعت سنت ہے اور نہ صرف مردوں کے لیے بلکہ عورتوں کے بھی۔ اور آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلفائے کرام راشدین و ائمہ ہادین مشائخ عطام نے اس سنت کو جاری و رائج رکھا اور خواتین کو باپردہ بیعت سے نوازتے رہے تو بھی ثابت ہوتا ہے کہ بیعت سنت ہے اور اس کی تاکید بھی ہے۔
بیعت کا فائدہ
صاحب عوارف المعارف لکھتے ہیں کہ شیخ کے زیر حکم ہونا اللہ اور اس کے رسول کے زیر حکم ہونا ہے اور اس کی سنت کو وہی زندہ کرتا ہے جس نے اپنے جسم و روح کو شیخ کے حوالے کردیا اور اپنے ارادے سے نکل آیا اور اپنا اختیار چھوڑ کر شیخ میں فنا ہوگیا۔ غرضیکہ بیعت فلاح باطنی کے لیے ہے جس سے مقصود ہوتا ہے کہ اپنے اندر کو رذائل چیزوں سے پاک کرکے اسے روشن کیا جائے اور اپنے دل سے شرک خفی نکالا جائے۔ تو جب کوئی بھی نیت صحیحہ و اخلاص کے ساتھ اپنے شیخ کامل کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہے اور اس کی صحبت میں رہ کر تمام آداب کو بجا لاتا ہے تو شیخ کامل کی باطنی نظر سے روحانی فیوض و برکات اس مرید کے قلب باطن میں سرایت کر جاتے ہیں اور مرید کا باطن روشن و منور ہوجاتا ہے۔ اس روحانی و باطنی انوار و تجلیات کا حصول شیخ کامل کی محبت و صحبت پر ہی منحصر ہے۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب مرید شیخ کامل کی خدمت وصحبت میں حاضری کے وقت اپنے قلب و روح کو تمام تر توجہ کے ساتھ پیر کی طرف مرکوز رکھے تاکہ شیخ کامل کی پاکیزہ فطرت و وظائف باطنی کے تناسب سے مرید کے اندر بھی روحانی ربط و ضبط بڑھتا رہے اور وہ عروج حاصل کرتا ہوا خدا کا قرب حاصل کرلے۔ مگر سالک ہمیشہ یہ یاد رکھے کہ ان تمام منازل روحانی کا دارومدار شیخ کامل کی بیعت و صحبت پر ہی ہے۔
صحبت شیخ
جب یہ واضح ہوا کہ روح کی پاکیزگی و طہارت اور باطن کی ترقی و خدائے عزوجل کے قرب کو حاصل کرنے کے لیے بیعت شیخ و صحبت شیخ ایک اہم ذریعہ ہے، اب ضروری ہے کہ صحبت شیخ کی اہمیت و مقام کو پہچانا جائے تاکہ کامل طریقے سے مطلوبہ فوائد کو حاصل کیا جائے۔ سالک جب پیر کی صحبت میں حاضر ہو تو اپنے روح و قلب کو پیر کی طرف ہی متوجہ رکھے۔ چونکہ پیر اپنی توجہ سے سالک کو فیض پہنچاتا ہے، اگر سالک باطنی طرح پیر کی طرف متوجہ نہ ہوگا تو اس کے حصے کا فیض کسی دوسرے مشتاق و متوجہ سالک کو حاصل ہوجائے گا۔ کیونکہ سالک کی باطنی بے توجہی شیخ کامل کو اس کی طرف سے بے رغبت کردیتی ہے اور شیخ کامل مشتاق و متوجہ شخص کو اپنی توجہات سے نواز دیتا ہے، اس لیے صحبت میں بے توجہی سے بیٹھنا اپنے آپ کو محروم کردینا ہے۔
امام ربانی مجدد و منور الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ صحبت مرشد سے استفادہ حاصل کرنے کے بارے میں حکیم عبدالوہاب کو لکھتے ہیں کہ اس گروہ (اولیاء) کے پاس خالی ہوکر آنا چاہیے تاکہ بھرے ہوئے واپس جائیں اور اپنی مفلسی کو ظاہر کرنا چاہیے تاکہ ان کو شفقت آئے اور سالک کے لیے استفادہ کا راستہ کھل جائے۔ سیر آنا اور سیر چلے جانا کچھ مزا نہیں دیتا کیونکہ پرشکمی کا پھل سوائے بیماری کے اور کچھ بھی نہیں اور استغناء و بے پرواہی سے سوائے سرکشی کے اور کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔ امام ربانی علیہ الرحمۃ کے اس مکتوب مبارک سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پیر کی صحبت میں ہمیشہ اپنی باطن و قلب کی طرف مکمل دھیان رکھا جائے اور ان کی صفائی و درستگی کے لیے کوشان رہا جائے، نہ کہ وہاں موجود دیگر سالکین ذاکرین و شاغلین کی نگرانی کرتا پھرے۔ اور علاوہ ازیں پیر کی صحبت میں یا اس کی خانقاہ میں کسی بھی ایسے فعل و قول سے دور رہے جس سے وہاں پر موجود کسی بھی شخص کو تکلیف یا ایذاء پہنچنے کا اندیشہ ہو۔ پیر کے سامنے کبھی بھی فضول اور لایعنی باتوں سے مکمل احتراز کرنا چاہیے کیونکہ بسا اوقات اس طرح کی باتوں سے شیخ کامل کی قلب میں کلفت پیدا ہونے کا خدشہ ہوتا ہے جو کہ سالک کی ترقی کے لیے نہایت ضرر رساں چیز ہے۔ اور اس کے علاوہ سالک کو یہ بات بھی سمجھنی چاہیے کہ صرف دور بیٹھے فون یا خط کے ذریعے پیر کو اپنے واقعات و حالات سے آگاہ رکھنا شافع نہیں بلکہ صحبت شیخ میں حاضری ضروری چیز ہے۔
صحبت شیخ کے بغیر سالک کو ثمرات خاصہ حاصل نہیں ہوسکیں گے اگر بغیر صحبت شیخ حاصل کیے ہوئے کوئی بھی سالک لاکھ اوراد و وظائف میں مصروف رہے تب بھی کچھ نفعہ حاصل نہیں ہوسکتا کیونکہ خدائے عزوجل کا یہ طریقہ عطا ہے کہ وہ نفعہ، انعام و فیض ہمیشہ وسیلہ سے ہی جاری فرماتا ہے۔ اس لیے سالک کے لیے لازم ہے کہ نہ صرف صحبت میں آمد و رفت کو ضروری سمجھے بلکہ اس میں کثرت کو لازم رکھے۔ حضرت خواجہ غریب نواز پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ اپنے مکتوبات مبارک میں تحریر فرماتے ہیں کہ صحبت شیخ میں اس قدر آمد و رفت ہوکہ پیر کے وطن کو اپنا وطن اور گھر سمجھنے لگے۔ لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اولیائے کاملین نے صحبت شیخ کے لیے محبت شیخ کو شرط اول قرار دیا ہے۔ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اپنے مکتوبات میں تحریر فرماتے ہیں کہ اگر الفت کے بغیر سالہا سال صحبت رہے تو بھی کوئی فائدہ برآمد نہ ہوگا۔
اس لیے سالک پر لازم ہے کہ فائدہ کے حصول کے لیے کامل محبت، مکمل توجہ اور یکسوئی کے ساتھ پیر کی صحبت میں حاضری دے۔ اسی طرح ہی سالک کو اس نظر کیمیا کا حصول ہوسکے گا جو تمام عمر کے لیے منقاد سعادت بن جائے گی۔ اسی لیے ہمیشہ مشتاق بن کر محبت کی حق ادائیگی بجا لانی چاہیے تاکہ اس نظر کیمیا کا مستحق بن پائے۔