الطاہر شمارہ نمبر
44 |
اردو مین پیج |
گلہائے رنگ رنگ
فرمان رسول صلّی اللہ علیہ وسلم
٭حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جہنم سے دوری چاہتا ہے اور جنت میں داخل ہونا چاہتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس حالت میں اس پر موت آئے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہوتو پھر وہ لوگوں کے ساتھ ایسا سلوک کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہو۔ (صحیح مسلم)
مرسلہ۔ ہومیو ڈاکٹر محمد اشرف ملک۔ بھریا روڈ
حکمت کے موتی
-
جس پر نصیحت اثر نہ کرے وہ جان لے کہ اس کا دل ایمان سے خالی ہے۔ (حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ)
-
بدخو اور بداخلاق کی دوستی سے احتراز لازم ہے کیونکہ اگر وہ بھلائی بھی کرنا چاہتا ہے تو اس سے برائی سرزد ہوجاتی ہے۔ (حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ)
مرسلہ:سیماں طاہری۔۔دنبہ گوٹھ کراچی
اقوال حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
-
پرہیزگار وہ ہے جو اپنی شرمگاہ کو شہوت سے بچائے اور زبان پر غالب رہے۔
-
پرہیزگار وہ ہے جو سب انسانوں کو صاف سمجھے اور اپنے نفس کو گندا سمجھے۔
مرسلہ:حافظ محمد انور قمبرانی طاہری۔۔بیلہ بلوچستان
اقوال زریں
-
دلوں کا چین اﷲ کی یاد سے نصیب ہوتاہے۔
-
غیبت قتل سے زیادہ بری چیز ہے۔
-
اللہ نے جو کچھ دیا ہے اس پر راضی رہوغنی ہوجاؤگے۔
مرسلہ: حمیر عباس انصاری۔۔ماتلی
اقوال زریں
-
بیوقوفوں کے کانوں میں باتیں نہ ڈال کیونکہ بجائے عمل کے وہ تیرے دانشمندانہ کلام کی تحقیر کرے گا۔
-
کفن امیر کا ہو یاغریب کا اس کی کوئی جیب نہیں ہوتی۔
-
جہالت افلاس کی بدترین شکل ہے۔
مرسلہ۔ اسد علی جت۔ ٹھٹھہ
مجھے شکوہ ہے
مجھے شکوہ ہے ان لوگوں سے جو دوسروں کی خوشیوں میں تو شریک ہوتے ہیں مگر غموں میں نہیں۔
مرسلہ۔ رضوان علی طاہری۔ ٹول پلازہ کراچی
یادیں
ایک لفظ ہے مگر اپنے اندر پوری دنیا بسائے ہوئے ہے۔ یادیں تلخ، شیریں، حقیقت، خواب بھی ہوتی ہیں۔ یہ سرمایہ محبت بھی ہوتی ہیں، خوشی و مسرت اور غم کے گذرے ہوئے لمحات بھی یادیں بن کر ہمیشہ ہمیشہ ساتھ رہتے ہیں، کس کے ساتھ گذرا وقت یادیں بن کر ہمیشہ دل میں رہتا ہے اور یادوں میں انتظار ہی ہوتا ہے اور ملنے کی تمنا بھی۔
مرسلہ: ثمینہ کوثر ۔۔بھلیر والا
زندگی اور موت
میں نے بارہا سوچا، غور کیا موت کیا چیز ہے؟ زندگی سے اس کا کیا رشتہ ہے؟ اور ان میں کیا فاصلہ ہے؟
ایک دن میں نے ایک جہاز کو دیکھا، وہ ساحل سمندر سے روانہ ہورہا تھا اور آہستہ آہستہ دور ہورہا تھا یہاں تک کہ افق میں غائب ہوگیا۔۔۔ یہ دیکھ کر لوگوں نے کہا ”وہ چلاگیا“ میں نے سوچا اس ساحل پر کھڑے لوگ کہہ رہے ہیں ”وہ چلاگیا۔۔۔“ جب کہ یہاں سے دور کہیں ایک اور ساحل ہوگا وہاں کے لوگ اس ساحل پر کھڑے اس کے آنے کا ذکر کررہے ہونگے وہ اسے آتا دیکھ کر کہیں گے ”وہ آگیا“
میں نے سوچا کہیں اس کا نام تو موت نہیں۔۔۔ پرانی زندگی سے الوداع اور ایک نئی زندگی کا آغاز!
مرسلہ:محمد وسیم طاہری۔۔مہاجر کیمپ کراچی
اچھی باتیں
-
تم خدا کے ذکر میںدل لگاؤ‘سکون واطمینان تم میں دل لگالیں گے۔
-
زندگی کی خوشیاں ہمارے خیالات پر منحصر ہے۔
مرسلہ: فقیر خوش محمد طاہری۔۔لاڑکانہ
معلومات
-
عورت کا دل مرد سے زیادہ دھڑکتا ہے۔
-
نیوزی لینڈ وہ واحد ملک ہے جس میں سانپ نہیں رہتے۔
-
سب سے پہلے اسپتال بغداد عراق میں تعمیر کیا گیا۔
-
سب سے زیادہ گرمی عزیزیہ (لبیا) میں ہوتی ہے۔
مرسلہ:مولوی محمد زاہد طاہری
آنکھ
-
آنکھ روتی ہے تو عرش معلی کو ہلاکر رکھ دیتی ہے۔
-
آنکھ مسکراتی ہے تو دنیا کی تمام معصومیت جذب کرلیتی ہے۔
-
آنکھ کھلتی ہے تو دنیا کے رازوں سے پردہ اٹھا دیتی ہے۔
-
آنکھ لگتی ہے تو سنگلاخ چٹانوں کو بھی پھولوں کی سیج بنادیتی ہے۔
مرسلہ:محمد مبین گبول ۔۔کراچی
قدر
-
علم کی قدر ان پڑھ سے وچھو۔
-
پانی کی قدر پیاسے سے پوچھو۔
-
سواری کی قدر راہ گیر سے پوچھو۔
-
صحت کی قدر مریض سے پوچھو۔
مرسلہ:محمد زبیر طاہری۔۔نوابشاہ
دوگھونٹ دو قطرے
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے دو گھونٹ اللہ کو بہت پسند ہیں، ایک غصے کا اور دوسرا صبر کا۔ دو قطرے اللہ کو نہایت محبوب ہیں ایک جہاد میں خون کا قطرہ اور دوسرا آنکھ کا وہ قطرہ جو رات کی تنہائی میں صرف اللہ کے خوف سے نکلے۔
مرسلہ:سیماطاہری ۔۔دنبہ گوٹھ کراچی
اقوال زریں
سات چیزیں سات کو کھاجاتی ہیں:
-
غم عمر کو
-
غیبت عمل کو
-
صدقہ مصیبت کو
-
غصہ عقل کو
-
تکبر عمل کو
-
نیکی بدی کو
-
عدل ظلم کو
مرسلہ:محمد رمضان طاہری جوکھیو ۔۔بندیجا اسٹاپ گڈاپ
قرآن پاک کے تراجم
-
قرآن پاک کا پہلا فارسی ترجمہ شاہ ولی اﷲ نے کیا۔
-
قرآن پاک کا پہلا انگریزی ترجمہ مولانا محمد علی نے کیا۔
-
قرآن پاک کا پہلا ہندی ترجمہ راجا نروک نے کیا۔
-
قرآن پا ک کا پہلا روسی ترجمہ جمال الدین افغانی نے کیا۔
-
قرآن پاک کا پہلا پنجابی ترجمہ حافظ محمد لکھنوی نے کیا۔
-
قرآن پاک کا پہلا اردو ترجمہ رفیع الدین نے کیا۔
-
قرآن پاک کا پہلا سندھی ترجمہ آخوند عزیز اللہ نے کیا۔
مرسلہ:عبدالقیوم جت طاہری ۔۔ٹھٹھہ
خیالات سے مقدر تک
اپنے خیالات پر نظر رکھیے، یہ الفاظ کی شکل اختیارکرلیتے ہیں۔ اپنے الفاظ پر نظر رکھیے یہ اعمال کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ اپنے اعمال پر نظر رکھیے یہ عادات میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ اپنی عادات پر نظر رکھیے یہ شخصیت کا روپ دھار لیتی ہے۔ اپنی شخصیت پر نظر رکھیے یہ آپ کا مقدر بن جاتی ہے۔
مرسلہ:رانا ماجدخان ۔۔بھریا روڈ
شعر
جناب آمنہ کا چاند جب نکلا زمانے
میں
قمر کی چاندنی قدموں پر ہونے نثارآئی
حلیمہ دوجہاں قربان ہو تیرے مقدر
پر
تیرے کچے سے مکان میں رحمت پروردگار آئی
مرسلہ:طارق مقصود طاہری۔۔وہاڑی
قسمت
قسمت پہیے کے چکر کی مانند گھومتی ہے جو کبھی اوپر جاتا ہے اور کبھی نیچے آتا ہے تم بھی جب اوپر جاؤ تو نیچے والوں کا ہاتھ تھام لو کیونکہ اگلے چکر میں تمہیں ان کی ضرورت پڑ جائے گی۔
مرسلہ :فقیر محمد خان طاہری کشمیری۔۔ماتلی
پانچ سورتیں پانچ چیزوں سے بچاتی ہیں
-
سورہ فاتحہ اللہ تعالیٰ کے غضب سے بچاتی ہے۔
-
سورہ یاسین قیامت کے دن پیاسے رہنے کے لیے مانع ہے۔
-
سورہ دخان قیامت کی ہولناکیوں سے بچاتی ہے۔
-
سورہ واقعہ فقروفاقہ سے بچاتی ہے۔
-
سورہ ملک عذاب قبر سے بچاتی ہے۔
مرسلہ:محمد اویس طاہری۔۔ٹنڈوالہیار
اقوال زریں
-
اللہ کا خوف ہی سب سے بڑی دانائی ہے۔
-
حرص سے روزی میں اضافہ نہیں ہوتا مگر آدمی کی قدر کم ہوجاتی ہے۔
-
عقلمند وہ ہے جو ہر کام میں میانہ روی اختیار کرے۔
-
ہنر انسان کابہترین دوست ہے۔
-
پانی آگ پر جتنا بھی گرم کیا جائے مگر آگ کو بھجانے کے لیے کافی ہے۔
مرسلہ: فقیر شبیر نعمان طاہری۔۔ٹنڈوالہیار
مسکراہٹ کی اہمیت
-
مسکراہٹ زندگی کا دوسرا نام ہے۔
-
مسکراہٹ شخصیت کی آئینہ دار ہے
-
مسکراہٹ دل اور دوستی کی کنجی ہے۔
مرسلہ:غلام مرتضیٰ ملک طاہری۔۔ٹنڈوالہیار
اقوال زریں
-
دنیا میں عمل کرنے والوں کی کمی نہیں کمی صرف اس انسان کی ہے جو سوچ کر عمل کرنا جانتا ہو۔(مولانا وحید الدین خان)
-
بخیل آدمی کی دولت اس وقت زمین سے باہر آتی ہے جب وہ خود زمین کے نیچے چلاجاتاہے۔(شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ)
مرسلہ۔ گل ناز لاڑک۔ پنجوڈیرو
مہکتی کلیاں
-
وقت ایک عظیم استاد ہے مگر بدقسمتی سے یہ اپنے تمام شاگردوں کو ہلاک کرڈالتا ہے۔
-
وہ لوگ جن کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہوتا ہے عام طور پر مختصر ترین لفظوں میں بات کرتے ہیں۔
مرسلہ۔ ساجد علی گجر طاہری۔ فیصل آباد
مہکتی کلیاں
-
سنجیدہ بنو لیکن تلخ مزاج نہ بنو۔ بہادر بنو مگر جلد بازی سے بچو۔ حلیم بنو مگر غلامی کی حد تک نہ پہنچو۔ صابر بنو لیکن کمینہ پن اختیار نہ کرو۔ مستقل مزاج بنو لیکن ضدی نہ بنو۔
-
عقلمند جب خاموش ہوتا ہے تو فکر کرتا ہے جب بولتا ہے تو ذکر کرتا ہے اور جب دیکھتا ہے تو عبرت پکڑتا ہے۔
مرسلہ۔ عبدالواجد۔ ملتان
منقبت
میں ڈب گئی وچ گناہاں مینوں آن بچائیں پیرا
میں بھری آں نال پلیتی مینوں پاک بنائیں پیرا
وچ کشتی اے گھمن گھیری مینوں آگئی اے رات ہنیری
نئیں تدھ بن کوئی ڈھیری پیرا خبر لویں ہن میری
کریں مدد سجن سائیں مینوں پار لگائیں پیرا
مرسلہ مسز اعجاز۔۔راولپنڈی
بچہ
-
بچے سے دو شخص ہرگز مایوس نہیں ہوتے ایک اس کی ماں اور دوسرا اس کا استاد۔
-
بچے کا شگفتہ معصوم چہرہ روحانی مسرت ومحبت کا خزینہ ہے۔
-
بچہ قوم کی متاع بے بہا ہے۔
-
بچہ قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔
-
بچے میں قوم کا مستقبل جھانکتا ہے۔
مرسلہ۔ حافظ غلام مصطفی اعوان۔ اسلامک سینٹر کراچی
جھاڑیوں میں
ایک نشئی اندھیری رات میں راستے سے چلا جارہا تھا اور اس کے آگے ایک جگنو اڑتا ہوا جارہا تھا۔ نشئی نے اسے دیکھ کر کہا ”بھائی صاحب کچھ تو میرے لیے بھی بچانا“ اتنے میں جگنو جھاڑیوں میں بیٹھ گیا تو اس نشئی نے دکھی ہوکر کہا ”واہ بھئی واہ سگریٹ جھاڑیوں میں پھینک دیا مگر مجھے نہ دیا“
مرسلہ۔ محمد حفیظ اجمل بوزدار طاہری۔ ٹنڈوالہیار
چار کا ہندسہ
-
اللہ جلالہ کے نام میں چار حروف ہیں۔
-
محمد صلّی اللہ علیہ وسلم کے نام میں چار حروف ہیں۔
-
قرآن کے نام میں چار حروف ہیں۔
-
لفظ محمد صلّی اللہ علیہ وسلم قرآن میں چار مرتبہ آیا ہے۔
-
آسمانی کتابیں چار ہیں۔
-
میرے آقا صلّی اللہ علیہ وسلم کے چار یار ہیں۔
-
اﷲ تعالیٰ کے مقرب فرشتے چار ہیں۔
مرسلہ۔ محمد اشرف طاہری۔۔ٹنڈوالہیار
ماں
-
ماں کہنے کو تو یہ تین حرفوں کا ایک لفظ ہے، لیکن در حقیقت ساری دنیا کے رنگ اسی ایک لفظ میں بھرے ہوئے ہیں۔
-
ماں ایک ایسا درخت ہے جس کی چھاؤں تلے بیٹھنے والے ہمیشہ زمانے کی تیز ترین شعاعوں سے محفوظ رہتے ہیں۔
ماں پھول ہے انمول ہے جو
کھلتا نہیں گلزاروں میں
ماں ہیرا ہے نایاب ہے جو ملتا نہیں بازاروں میں
مرسلہ:صائمہ محمد یونس
ہنسنا منع ہے
دو چوہے جنگل سے گذر رہے تھے سامنے سے شیر کا بھی گذر ہوا۔ ایک چوہے نے کہا آؤ اس کی پٹائی لگائیں یہ بہت اکڑتا ہے۔ دوسرے نے کہا چھوڑو یار بیچارہ اکیلا ہے اور ہم دو۔
مرسلہ۔ خلیل احمد کمبوہ طاہری۔ ٹنڈوالہیار
غائب دماغ پروفیسر
ایک فزکس کا پروفیسر اپنے شاگردوں کو پڑھا رہا تھا۔ پروفیسر صاحب نے شاگردوں کو کہا ”بھائی آج ہم ایک مینڈک کا تجربہ کرنے والے ہیں اور مینڈک میری جیب میں ہے“ پروفیسر صاحب نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور کچھ نکالا تو شاگردوں نے کہا سر آپ کے ہاتھ میں تو پیٹیز ہے۔ پروفیسر نے کہا کمبختو پھر صبح میں نے کیا کھایا تھا۔
مرسلہ: قاری فرحان احمد انڑ ۔۔نواب شاہ
سنہری کرنیں
-
چغل خور جنت میں داخل نہیں ہوگا۔
-
خاموشی بہت بڑی حکمت عملی ہے۔
-
اگر آنکھیں روشن ہوں تو ہر روز روز قیامت ہے۔
-
جوشخص اپنے نفس کا معلم نہیں ہوسکتا وہ دوسروں کا کس طرح ہوسکتا ہے۔
مرسلہ: اسامہ عباسی