فہرست
سیرت ولی کامل (حصہ دوم)

باب اول

حجاز مقدس کا مبارک سفر


حضور شمس العارفین سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ نے ۱۹۶۹ء میں فریضۂ حج ادا فرمایا۔

آپ کی حجاز مقدس کے لئے روانگی، کراچی میں مختصر قیام، طویل بحری سفر، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ زادھما اللہ شرفًا و تعظیمًا کی حاضری، قیام، زیارات، خواہ واپسی کے تفصیلی احوال، فریضۂ حج کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ آپ کے توکل، تقویٰ، خوفِ خدا، عشق مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور تبلیغ اسلام کا عظیم شاہکار ہیں۔

کراچی تک کافی فقراء آپ کو الوداع کہنے کے لئے ہمراہ گئے۔ اس زمانہ میں شہر کراچی میں آپ کی جماعت کا تبلیغی کام محدود نوعیت کا تھا (جبکہ بعد میں آپ کا حلقہ بیسیوں مساجد و مدارس تک وسیع ہوچکا ہے۔) کراچی میں آپ کا جتنے دن بھی قیام رہا، چنیسر گوٹھ میں قیام فرما رہے جہاں روزانہ نئے نئے آدمی آپ کے حلقہ ارادت میں داخل ہوتے رہے۔ کئی فاسق و فاجر لوگ بھی آپ کے دست حق پرست پر بیعت ہوکر تائب ہوئے۔ چنانچہ محترم محمد ایوب چنہ صاحب (کھنڈو گوٹھ کراچی) نے بتایا جو اب باشرع، متقی، پرہیزگار اور حضور کے مخلص خادم ہیں، انہوں نے بتایا کہ بنیادی طور پر میرا اصل تعلق کنڈیارو سے ہے، مجھے حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ سے تعارف تو تھا ہی مگر آپ سے بیعت نہیں ہوا تھا، ہمدرد دواساز کمپنی میں ملازمت کے علاوہ ایک مشہور گلوکار سے موسیقی اور گانے بجانے کی تربیت حاصل کرتا تھا، کلب کا ممبر تھا، سینما دیکھا کرتا تھا، نماز نہیں پڑھتا تھا، داڑھی مونڈھتا تھا۔ چونکہ محترم حاجی عبداللطیف چنہ صاحب میرے رشتہ دار تھے اس لئے میں ان کو ملنے گیا اور ان کے کہنے پر حضور سے ذکر سیکھا، حضور نے مختصر الفاظ میں نصیحت فرمائی، الحمدللہ حضور کی نظر کرم سے اسی دن سے نماز شروع کی، داڑھی رکھ لی، کلب اور سینما میں جانا بند کردیا، اب دوسروں کو بھی تبلیغ کرتا رہتا ہوں۔

احقر نے سفر حج کی درج ذیل تفصیلات حضور کے خادم خاص اور مخلص رفیق سفر و حضر حضرت سید عبدالخالق شاہ صاحب سے پوچھ کر تحریر کی ہیں، جبکہ دوسرے دونوں مخلص ساتھی حضور کے خصوصی معالج اور مخلص مرید ڈاکٹر عبداللطیف صاحب چنہ اور بزرگ صفت محترم فقیر حاجی غلام حیدر ڈاہری حضور کے سانحہ ارتحال سے پہلے ہی راہی ملک بقا ہوچکے ہیں رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین۔

حجاز کا ادب

محترم حاجی عبدالخالق شاہ صاحب نے بتایا کہ روانگی سے قبل حضور نے مجھے فرمایا کہ استنجاء کے لئے ڈھیلے یہاں سے اٹھانا، جتنا عرصہ حجاز میں قیام رہے گا ہم وہاں کے ڈھیلے بالکل استعمال نہیں کریں گے۔ آخر ایسے ہی کیا گیا، پاکستان واپسی تک وہی ڈھیلے استعمال کرتے رہے۔ پاکستان کے سب سے بڑی بحری جہاز سفینہ حجاج کے ذریعے حضور حجاز مقدس تشریف لے گئے تھے۔

تقویٰ

چونکہ جہاز میں کھانا گورنمنٹ ٹھیکیداروں کی طرف سے دیا جاتا تھا اور حضور نیک اور متقی آدمی کے ہاتھ کا تیار کردہ کھانا کھانے کے عادی تھے، اس لئے حضور کے کراچی کے میزبان سید فراخ شاہ صاحب نے (جن کے ٹھیکیداروں سے مراسم تھے) ٹھیکیداروں سے میری ملاقات اور حضور کا تعارف کرایا کہ وہ آپ کے ملازمین کا تیار کردہ کھانا نہیں کھائیں گے، نہ ہی بازاری گوشت تناول فرمائیں گے، گھی، مرچ، مصالحے بھی اپنے ذاتی استعمال کریں گے، اس لئے جس وقت بھی یہ شاہ صاحب آجائیں ان کو سبزی دیدیا کریں اور منشاء کے مطابق کھانا پکانے دیں۔ آخر ایسے ہی ہوا، آخر تک حضور جہاز میں بھی پرہیز و تقویٰ کے مطابق کھانا تناول فرماتے رہے، اسی طرح واپسی پر بھی شاہ صاحب ہی جہاز میں حضور کے لئے کھانا پکاتے تھے۔ جہاز میں بھی پابندی سے نماز باجماعت ادا فرماتے رہے۔ حضور کے کمال درجہ تقویٰ و پرہیزگاری کا سن کر کئی آدمی حضور سے ملنے آئے، چند افراد جو پنجابی معلوم ہوتے تھے حضور سے ملاقات کے بعد اس قدر متاثر ہوئے کہ آپ سے طریقہ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت بھی ہوئے۔ اسی جہاز پر سوار ایک پیر صاحب اور چند علماء کرام بھی حضور سے ملنے کے لئے تشریف لائے تھے اور حضور سے مختلف موضوعات پر سوالات بھی پوچھے، آپ کے جوابات اور اس سے بڑھ کر آپ کے اخلاق سے بہت متاثر ہوئے۔ آپ نے جہاز میں بھی بعض اور آدمیوں کو تبلیغ فرمائی تھی۔

ساتویں دن جہاز عدن پہنچا اور وہاں ۸۔۹ گھنٹہ کا اسٹاپ بھی کیا۔ ذی الحجہ کی کوئی دوسری یا تیسری تاریخ ہوگی کہ عصر کے وقت جہاز جدہ پہنچ کر لنگر انداز ہوا۔ غلطی سے حضور کا شام کا کھانا میں نے تیار نہیں کیا تھا، گھر سے جو پکی روٹی بنواکر ساتھ لے گئے تھے اسی پر گزارہ کیا۔ رات جدہ میں قیام کے بعد دوسرے دن مکہ مکرمہ زادھا اللہ شرفًا و تعظیمًا پہنچے۔ مکان پر سامان رکھ کر حرم شریف جانے کی تیاری کی، طواف اور سعی کے بعد حضور نے لباس احرام اتار لیا کہ آپ نے عوارض کی وجہ سے تمتع کا احرام باندھا تھا، جبکہ ہم نے حج قران کے لئے احرام باندھا تھا اور ہم کو قران کی ترغیب بھی حضور ہی نے دی تھی۔ سعی کے بعد پھر طواف شروع کیا۔ نماز ظہر تک طواف کرتے رہے، نماز کے بعد پھر طواف شروع کیا یہاں تک کہ عصر کا وقت ہوا۔ ہم جوان ہوتے ہوئے تھک چکے تھے مگر حضور کی وجہ سے ہم بھی طواف کرتے رہے، آخر عصر کے بعد حضور نے بلاکر فرمایا: آپ حضرات چل کر کھانا تیار کریں، شاید کسی کو بھوک لگی ہو۔ ہم کھانا تیار کرکے نماز مغرب کے وقت حاضر ہوئے، دیکھا حضور صبح کی طرح استغراق و محویت کے عالم میں مصروف طواف ہیں۔ مغرب کے بعد فرمایا اس عاجز کو تو بھوک نہیں لگی، آب زم زم پی لیا ہے اسی سے سیر ہوگیا ہوں۔ بہرحال پھر بھی ہمارے ساتھ مکان پر تشریف فرما ہوکر تھوڑا بہت کھانا تناول فرمایا، وضو کرکے عشاء کے لئے حرم شریف آگئے۔ چونکہ نماز میں ابھی کچھ وقت رہتا تھا، طواف شروع کیا۔ ہم نے بھی ساتھ طواف کیا۔ نماز عشاء پڑھ کر پھر طواف شروع کیا، نماز فجر پڑھ کر پھر طواف شروع کیا۔ یہ عرصہ ہم بھی اکثر و بیشتر طواف میں ساتھ تو تھے مگر تھک چکے تھے۔ مکہ مکرمہ میں آمد کا یہ دوسرا دن تھا، حضور ہماری حیثیت سے تو واقف تھے ہی، آخر مجھے اور ڈاکٹر صاحب کو بلاکر فرمایا: آپ اس عاجز کے ساتھ طواف نہیں کرسکیں گے، یہ عاجز طواف کرتے بالکل نہیں تھکتا، اس لئے جب بھی آپ تھک جائیں مکان پر جاکر آرام کریں، میری طرف سے آپ کو بخوشی اجازت ہے، باقی یہ عاجز زیادہ وقت یہیں رہے گا، نہ معلوم دوبارہ یہاں حاضری کا موقعہ ملے یا نہ ملے؟ ہم دونوں چلے گئے، تقریبًا گیارہ بجے ڈاکٹر صاحب حضور کو لینے گئے، مکان پر آکر کھانا کھایا اور قیلولہ بھی کیا، نماز ظہر کے لئے پھر حرم شریف پہنچے، نماز کے بعد کچھ دیر تک تو ہم بھی طواف کرتے رہے مگر بعد میں ہم مکان پر چلے آئے اور حضور عصر تک طواف کرتے رہے، غرضیکہ جتنے دن بھی مکہ مکرمہ میں قیام رہا حضور کے اکثر اوقات حرم میں کعبۃ اللہ المشرفہ کا طواف کرتے ہوئے گزرے۔ گو حضور کی نسبت ہم جوان تھے، صحت بھی اچھی تھی، طواف کا شوق بھی تھا، مگر حضور کے ہمراہ مسلسل طواف کرنے کی ہم میں سے کسی میں سکت نہ تھی، جبکہ حضور اگر تھک جاتے تھے تو چند منٹ بیٹھ کر پھر طواف شروع کرتے تھے۔

ادب

چونکہ ایام حج کی وجہ سے رش بہت زیادہ تھا، حضور کو جسمانی عوارض بھی کافی تھے، اس لئے بکثرت طواف کرنے کے باوجود آپ کو حجر اسود کو بوسہ دینے کا موقعہ نہیں مل رہا تھا۔ استسلام (ہاتھ سے اشارہ کرکے ہاتھ کو بوسہ دے دینا) پر اکتفا کرتے تھے، اور ہمیں بھی کہہ دیا تھا کہ بھیڑ میں کسی کو تکلیف پہنچا کر حجر اسود کو بوسہ دینے سے بہتر ہے کہ استسلام کریں۔ بہرحال ہم سے تو رہا نہ گیا، چند بار گھس کر حجر اسود تک پہنچے تھے۔
چونکہ حضور رات کافی دیر طواف کرنے کے بعد ہی آکر آرام فرما ہوئے تھے اور تہجد کے بعد پھر طواف کرنے چلے جاتے تھے، ایک رات تقریبًا ایک ڈیڑھ بجے جاگ جانے پر میں وضو کرکے طواف کرنے چلا گیا، حضور کو اس لئے نہ جگایا کہ تھکے ہوئے ہیں کچھ دیر تک آرام لیں۔ حالانکہ حضور نے ہمیں فرمایا تھا کہ خواہ ایک ڈیڑھ بجے جاگو ہمیں ضرور جگانا۔ بہرحال میں جو حرم شریف پہنچا رش کم تھا، بڑی سہولت سے حجر اسود کو بوسہ دینے کا موقعہ ملتا رہا، اس وقت انڈونیشی حجاج کرام کے علاوہ دوسرے ممالک کے حاجی بہت کم طواف کررہے تھے۔ تہجد کے بعد حسب معمول حضور طواف کرنے تشریف لے آئے۔ صبح کو میں نے اپنے رات کے طواف کا تذکرہ کیا تو فرمایا آپ کو چاہیے تھا کہ مجھے بھی اٹھاتے، حجر اسود کو بوسہ دینے کا دن میں موقعہ نہیں ملتا۔ دوسری رات معمول سے پہلے طواف کرنے چلے آئے اور آپ کو حجر اسود کو بوسہ دینے کا موقعہ مل گیا۔

مناسک حج کی ادائیگی کے لئے جن جن مقامات پر حاضر ہوئے ہر جگہ نماز باجماعت ادا کرتے رہے۔ چونکہ ہمارے شیخ طریقت ہونے کے علاوہ ہم میں عالم دین بھی حضور ہی تھے اس لئے طواف کے آداب دیگر مقامات کے آداب اور مسنونہ دعائیں پڑھنے کی تعلیم بھی حضور ہی دیتے تھے، خاص کر مقام عرفات پر ہمیں فرمایا توبہ قبول ہونے کے لئے عرفات کا منفرد مقام ہے، اس لئے دل و جان سے تائب ہوکر اپنے لئے، رشتہ داروں اور دوست احباب کے لئے دعائیں مانگیں۔ اور خود بھی کافی دیر تک دعائیں مانگتے رہتے، اپنے لئے، اپنے اہل و عیال اور تمام جماعت کے لئے بار بار دعائیں مانگتے رہتے۔ عرفات سے مزدلفہ اور منیٰ تک پیدل گئے، شیطان کو کنکریاں مارنے کا صحیح طریقہ بھی ہمیں حضور نے سمجھایا۔ سخت رش کے باوجود حضور کنکریاں مارنے خود جاتے تھے۔ ایک بار حضور کو بھیڑ میں کافی تکلیف بھی ہوئی، آپ کے نعلین مبارک بھی وہیں گرگئے، پھر بھی کنکریاں مارنے خود جاتے تھے۔ منیٰ میں میں بیمار ہوگیا، ڈاکٹر صاحب نے دوائی دی اور کہا تجھے دل کی تکلیف ہے مگر حضور نے فرمایا فکر نہ کریں کثرت ذکر سے سینہ میں گرمی پیدا ہوئی ہے اور کچھ نہیں۔ آپ نے دم بھی فرمایا۔ حرم شریف میں پہنچ کر مجھے فرمایا سیر ہوکر زمزم پیؤ، یہی تمہارا علاج ہے، پھر زمزم شریف کی بہت تعریف فرمائی کہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ اگر بھوک کے وقت آدمی زمزم پیئے گا تو سیر ہوجائے گا، اگر پیاس کے وقت پیئے گا تو پیاس ختم ہوگی۔ یہ زمزم کی امتیازی خصوصیت ہے کہ پانی ہونےکے علاوہ ایک گونہ طعام کی خاصیت بھی اس میں موجود ہے۔ اور ہوا بھی ایسا ہی کہ زمزم شریف پیتے ہی ٹھیک ہوگیا، حالانکہ پہلے مجھ سے چلا نہ جاتا تھا۔

مدینہ منورہ کی حاضری

صرف آٹھ دن کے لئے مدینہ منورہ زادھا اللہ شرفًا و تعظیمًا جانے کی اجازت ملی تھی۔ جس وقت وہاں پہنچے نماز کا وقت ہورہا تھا، حرم شریف ہی میں سامان رکھ کر نماز پڑھی، نماز کے بعد انتہائی وارفتگی کے عالم میں بارگاہ رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے۔ جالی مبارک کے سامنے باادب کھڑا ہوکر گریہ و بے خودی کی حالت میں کافی دیر تک صلٰوۃ و سلام کا نذرانہ پیش کرتے رہے۔ مدینہ عالیہ کے قیام کے دوران آپ اکثر اوقات ریاض الجنہ میں، اگر وہاں جگہ نہ ہوتی تو کسی اور جگہ نوافل پڑھتے، ذکر مراقبہ کرتے اور طویل ترین دعائیں مانگتے رہتے تھے، اور بار بار صلٰوۃ و سلام پڑھنے کے لئے حاضر ہوتے تھے، موقعہ ملنے پر جالی مبارک کو بوسہ دے دیتے تھے ورنہ ہاتھ رکھ کر چوم لیتے تھے۔ عمومًا تہجد کے بعد حرم شریف میں آتے تھے اور ریاض الجنہ میں جگہ مل جاتی تھی، پھر آپ وہاں سے ہٹتے نہیں تھے۔ یہ آپ کا روزانہ کا معمول تھا مگر افسوس کہ حضور کی یہ تمنا اور خواہش پوری نہ ہوسکی کہ مزید کچھ دن مدینہ عالیہ میں ٹھہرتے اور جلد ہی مکہ مکرمہ واپسی ہوگئی۔ عین واپسی کے وقت بھی حضور صلٰوۃ و سلام پڑھ کر آئے تھے جبکہ میں تیاری کرتے کرتے رہ گیا تھا۔

غار ثور کی زیارت

فرمایا غار ثور کی زیارت کے لئے چلنا ہے، دشوار گزار راستہ ہے، طبعیت کسی تکلیف کی متحمل بھی نہیں، مگر بار بار ایسے مواقع نہیں ملتے۔ بہرحال پانی وغیرہ اپنے ساتھ لیکر روانہ ہوئے۔ تقریبًا آدھ فاصلہ طے کیا ہوگا کہ حضور چلنے سے عاجز آگئے، ہم نے جاکر غار ثور کی زیارت کی اندر بیٹھ کر نوافل پڑھے، میں نے تبرک کے طور پر چند چھوٹے پتھر بھی وہاں سے لے لیے۔ ہماری آمد تک حضور وہیں بیٹھے رہے۔ رات گزار کر دوسرے دن پھر ہمیں جبل نور کے فضائل بتاکر فرمایا یہ عاجز تو مجبور ہے آپ جاکر زیارت کر آئیں۔ جبل نور وہ مقام جہاں قبل النبوۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبادت کیا کرتے تھے اور مقام شق الصدر دونوں کی زیارت کی۔

کمال استغناء

حضور کے استاد محترم حضرت علامہ الحاج مولانا رضا محمد بلوچ صاحب عرصہ سے مستقل طور پر مکہ مکرمہ میں مقیم تھے اور وہاں عطر فروشی کا کاروبار کرتے تھے۔ حضور سے ان کو ازحد محبت تھی، چند بار حضور کو دعوت دے کر اپنے مکان پر لے گئے اور بہت خاطر تواضع کی۔ دراصل وہ حضور کی طالبعلمی کے زمانہ کی نیکی اعلیٰ اخلاق اور غیر معمولی صلاحیتوں سے انتہائی متاثر تھے۔ پاکستان میں مولانا موصوف، تعلیم کے ساتھ طب و حکمت کا کاروبار بھی کرتے تھے اور سونا بنانے کا ایک نسخہ بھی ان کے پاس تھا۔ ذاتی اخراجات کی حد تک سونا بنایا کرتے تھے اور دیسی دوائیں بنانے میں بڑی حد تک حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ ان سے تعاون کرتے تھے۔ بہرحال میری موجودگی میں مولانا موصوف نے حضور کو کہا کہ میں نے تو آپ کو تعلیم کے زمانہ میں بھی کہا تھا کہ سونا بنانے کا نسخہ مجھ سے لے لیں قیمتی چیز ہے آپ کے لئے اچھا رہے گا، لیکن آپ نے انکار کردیا تھا۔ اس وقت تو کوئی خاص بوجھ آپ کے سر تھا نہیں، اب تو اتنی جماعت اور مریدین کے غیر معمولی بوجھ آپ کے سر ہیں، اس لئے چند دن میرے یہاں رہ کر تحفۃً نسخہ سیکھ لیں۔ حضور نے بڑے ادب سے فرمایا: مجھے طالبعلمی میں بھی سونے چاندی سے دلچسپی نہیں تھی، نہ اب ہے۔ اب تو اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں سے مستغنی کردیا ہے، انہوں نے (یہ سمجھ کر کہ شاید حضرت صاحب مکہ مکرمہ میں قیام کے ایام طواف، عبادت کے علاوہ کسی اور مصروفیت میں گزارنا نہیں چاہتے) کہا تو پھر آپ شاہ صاحب یا ڈاکٹر صاحب میں سے کسی کو حکم کریں، میں اسے سکھا دیتا ہوں۔ اس پر فرمایا نہ مجھے سونے کی ضرورت ہے نہ ان میں سے کسی کو ضرورت ہے، بس آپ اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں یہی ہمارے لئے کافی ہے۔ یہ سن کر مولانا موصوف کی حیرانی انتہا کو پہنچ گئی، فرمایا مجھے آپ کی یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ جس چیز کے لئے لوگ سرگرداں پھریں اور جو سنیاسی ایسے نسخے جانتے ہیں وہ کسی کو سمجھاتے نہیں اور آپ کو اتنی منت کے ساتھ نسخہ دیتا ہوں پھر بھی انکار کر رہے ہیں وجہ کیا ہے؟ جوابًا ارشاد فرمایا سونا چاندی کے لئے وہی سرگردان رہتے ہیں جو کسی نہ کسی طرح محتاج ہوتے ہیں، بالکل غریب و تنگ دست آدمی یا زیادہ حریص آدمی جو بہت کچھ ہوتے ہوئے بھی زیادہ کے لئے فکرمند ہوتے ہیں۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں باتوں سے محفوظ رکھا ہے، میں اس قسم کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔

حضور کے اس استغناء اور توکل کو دیکھ کر علامہ موصوف کی آپ سے محبت و عقیدت میں مزید اضافہ ہوگیا اور عرض کی یا حضرت مجھے اور میرے اہل خانہ کو بھی اپنے خداداد باطنی فیوض و برکات سے مستفیض فرمائیں۔ چنانچہ حضور کی کمال انکساری اور انکار کے باوجود ازحد اصرار کرکے علامہ موصوف خود بھی آپ سے بیعت ہوئے، اپنے صاحبزادہ (جو آج کل طائف میں رہتے ہیں) اور اہل خانہ کو بھی پردہ میں ذکر کی تعلیم دلائی۔

دیگر مقامات مقدسہ کی حاضری

حضور نے حجاز مقدسہ کے مختصر قیام کے دوران زیادہ سے زیادہ مقدس مقامات و مزارات کی زیارت کی کوشش کی۔ مثلًا مسجد ذوالقبلتین، مسجد قبا، مسجد ابوبکر، مسجد عمر، مسجد عثمان، مسجد علی، مسجد فاطمہ رضی اللہ عنہم، باغ اور بیر (کنواں) عثمان رضی اللہ عنہ، مقام شہادت حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ، خندق، جنت البقیع اور جنت المعلیٰ کی تفصیلی زیارت کی۔ جنت المعلیٰ کے خاطر خواہ ادب و احترام نہ ہونے کی وجہ سے بہت افسوس کا اظہار فرمایا، کئی مقدس مقامات پر چند بار بھی تشریف لے گئے، کئی ایک مقامات پر مراقبہ بھی کیا۔

جملہ مقامات مقدسہ پر اپنی ذات، اہل خانہ، جملہ جماعت بالخصوص مبلغ خلفاء حضرات، مدرسہ کے اساتذہ، طلبہ اور دربار عالیہ کے مقیم فقراء کے لئے خصوصی دعائیں فرماتے رہے، اور وہاں سے نصیحت آمیز اور دعائیہ خط بھی ارسال فرماتے رہے (افسوس یہ کہ حجاز مقدس سے تحریر کردہ خطوط فی الوقت میسر نہیں ہوسکے۔) وہاں کے دینی کتب خانوں سے بھی استفادہ اور تبادلہ خیالات کرتے رہے۔ واپسی پر کئی ایک نایاب قابل قدر کتابیں مثلًا تفسیر مظہری عربی، تفسیر روح البیان (جو اس وقت پاکستان میں نہیں ملتی تھیں) خرید کر لائے۔

غرضیکہ تقریبًا ۵۵ دن مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ زادھا اللہ شرفًا و تعظیمًا میں رہ کر انوار و تجلیات، فیوض و برکات حاصل کرنے کے بعد جب واپس کراچی پہنچے، بڑی تعداد میں بیرونی فقراء بھی اپنے آقا کے استقبال اور زیارت کے لئے حاضر تھے۔ اور پروگرام کے مطابق بذریعہ ٹرین رادھن اسٹیشن پر پہنچے تو مذکورہ اسٹیشن کی تاریخ میں پہلی بار اتنی کثرت سے مشائخ علماء اور فقراء آپ کے استقبال کے لئے چشم براہ تھے جو کافی دیر پہلے سے پلیٹ فارم پر اسپیکر لگا کر حمد و نعت کے علاوہ ہجر و فراق پر مبنی منقبتیں پڑھ رہے تھے۔

محترم حاجی احمد حسن صاحب کی استقبالیہ منقبت:

وڃ ڪونج مديني طرف تکي ..... هڪ ٻئي کي مبارڪ ڏيو اڄ کلي

جیسے ہی ٹرین پلیٹ فارم پر رکی، آپ سفید لباس میں ملبوس، اپنی نورانی وضع قطع کے ساتھ مزید فیوض و برکات، انوار و تجلیات لیے ہوئے پلیٹ فارم پر تشریف لائے، مستانہ وار مریدین کا انبوہ آپ کے گرد جمع ہوگیا، کنار در کنار محض زیارت کے لئے فقراء ایک دوسرے پر گر رہے تھے، گو تھوڑی دیر کے لئے آپ پلیٹ فارم پر ہی کرسی پر بیٹھ گئے اور کچھ آدمیوں نے مصافحہ کیا، مگر ہجوم کی وجہ سے دربار پر انتظار کا کہہ کر انتظامیہ نے مصافحہ سے منع کیا۔ دربار عالیہ تک فقراء آپ کے پیچھے پیچھے نعتیں منقبتیں پڑھتے آئے۔

اسراف اور رسم سے نفرت

حضور کی آمد کی خوشی میں مدرسہ کے طلبہ اور فقراء نے آپ کے دروازہ سے لیکر کافی دور تک راستے کے دونوں طرف کاغذ کی جھنڈیاں لگا رکھی تھیں، یہ دیکھ کر سخت غصہ کے لہجہ میں فرمایا اس کی کیا ضرورت تھی؟ یہ اسراف نہیں تو اور کیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ جب اپنے دروازہ مبارک پر پہنچے تو اپنے دست مبارک سے چند جھنڈیاں پھاڑ کر پھینک دیں اور بقیہ جھنڈیوں کے ہٹانے کے لئے خلیفہ محترم حاجی محمد صدیق صاحب کو حکم فرمانے کے بعد گھر تشریف لے گئے، جنہوں نے اسی وقت آپ کے ارشاد کی تکمیل کی۔

گو حضور سوہنا سائیں قدس سرہ باوجود اشتیاق کے دوسری بار حرمین تشریف نہ لے جاسکے تاہم حجاز میں مقیم فقراء حضور کی جانب سے منیٰ میں قربانی اور بارہا عمرے کرتے رہتے ہیں۔ چنانچہ حضور کی حیات ظاہری کے آخری سال مورخہ ۱۲۔۲۔۱۴۰۳ھ آپ کا ایک خط جس میں آپ نے کسی بزرگ کے حوالہ سے محترم حاجی احمد حسن صاحب کے نام تحریر کیا تھا کہ ان کے مریدین نے ان کی طرف سے اتنے حج اور عمرے کئے اور آپ حضرات بھی حضور سوہنا سائیں مدظلہ العالی کی جانب سے حج اور عمرے کرتے رہیں، آپ کا یہ خط مکہ مکرمہ میں مقیم جملہ فقراء کے لئے نعمت عظمیٰ ثابت ہوا کہ خط سنتے ہی تمام احباب حضور کی جانب سے عمرہ کے لئے تیار ہوگئے۔ خوش قسمتی سے رمضان المبارک کا مہینہ بھی تھا، ہر ایک فقیر نے کئی کئی بار حضور دامت برکاتہم العالیہ کی جانب سے عمرے کئے، اس عاجز نے بھی دس عمرے کئے اور ان تمام کا ثواب حضور کے سپرد کیا۔ میں نے اس سال حج بھی حضور کی جانب سے کیا تھا، جبکہ محترم چچا حاجی احمد حسن، حاجی محمد قاسم گانجو، حاجی محمد بخش، حاجی الٰہی بخش، حاجی علی گوہر اور حاجی محمد پناہ گانجو صاحب نے حضور کی جانب سے منیٰ میں قربانی کی۔ اس نیک کام کی ترغیب پر مکہ مکرمہ میں مقیم ہم تمام فقراء ازحد آپ کے مشکور ہیں۔ فقط فقیر عبدالعفور از مکہ مکرمہ۔